حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی حکومت نے مسجد اقصیٰ میں یہودیوں کو باضابطہ طور پر عبادت کی اجازت دے دی ہے۔
اسرائیلی وزیر قومی سلامتی اتمار بن گویر نے مسجد اقصیٰ میں یہودیوں کو عبادت کی اجازت دیے جانے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام نافذ کر دیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق نیتن یاہو حکومت نے مسجد اقصیٰ میں یہودیوں کو عبادت کی اجازت دینے کے فیصلے کو ابتدائی تجربہ قرار دیا ہے۔
پہلی بار یہودیوں کو مسجد اقصیٰ کے احاطے میں دعائیہ کتابیں لے جانے کی بھی اجازت دی گئی ہے۔ اسرائیلی حکومت کے اس فیصلے کے فوراً بعد یہودیوں کو مسجد اقصیٰ میں دعائیہ کتابوں کے ساتھ عبادت کرتے ہوئے بھی دیکھا گیا۔
یاد رہے کہ اس سے قبل مسجد اقصیٰ میں صرف مسلمانوں کو عبادت کی اجازت حاصل تھی جبکہ یہودی مسجد اقصیٰ کی بیرونی دیوار، جسے ’’دیوار گریہ‘‘ کہا جاتا ہے، کے سامنے عبادت کرتے تھے۔
دوسری جانب مسلم حلقوں نے مسجد اقصیٰ کی تاریخی اور قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی اسرائیلی کوششوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور اس اقدام کو مسجد اقصیٰ کی موجودہ صورتحال میں تبدیلی کی کوشش قرار دیا ہے۔









آپ کا تبصرہ